9 ستمبر 2026 - 16:01
لبنان کے دارالفتویٰ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے؛ مفتی اعظم کے طرزِ عمل پر علما کے سوالات

لبنان کے مفتی اعظم شیخ عبداللطیف دریان کی جانب سے زحلہ و بقاع اور عکار کے مفتیوں کے والدین کی وفات پر تعزیت اور نمازِ جنازہ میں عدم شرکت نے دارالفتویٰ کے اندر اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر مفتیوں کے ساتھ دریان کے اتار چڑھاؤ والے تعلقات اور بعض حالیہ سیاسی معاملات نے بھی اہل سنت کے مذہبی ادارے میں اندرونی کشمکش اور باہمی رقابتوں کے خدشات کو تقویت دی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی اخبار ’’الاخبار‘‘ نے دارالفتویٰ کے بعض علما کی جانب سے لبنان کے مفتی اعظم شیخ عبداللطیف دریان کے طرزِ عمل پر تنقید کی رپورٹ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دریان قاہرہ سے واپسی کے بعد زحلہ و بقاع کے مفتی شیخ علی الغزاوی اور عکار کے مفتی شیخ زید بکار زکریا سے ان کے والدین کی وفات پر ذاتی طور پر تعزیت کے لیے نہیں گئے، جبکہ ان کی جانب سے دونوں مفتیوں کے والدین کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے کوئی نمائندہ بھی نہیں بھیجا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریان نے صرف شیخ علی الغزاوی اور شیخ زید بکار زکریا کو بیروت کی ’’الامین مسجد‘‘ میں مشترکہ تعزیتی مجلس کے انعقاد کی دعوت دی، جس پر دارالفتویٰ کے بعض علما نے سوالات اٹھائے۔

تنقید کرنے والے علما کا کہنا تھا کہ بقاع میں ہی تعزیتی مجلس کافی تھی، کیونکہ وہاں لبنان کے صدر ژوزف عون سمیت متعدد سیاسی، مذہبی اور سکیورٹی شخصیات پہلے ہی شریک ہوچکی تھیں، اس لیے بیروت میں دوبارہ تقریب منعقد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔

دوسری جانب شیخ علی الغزاوی کے والد کی تعزیتی تقریب میں بڑی تعداد میں سیاسی، مذہبی شخصیات اور عام شہریوں کی شرکت نے بھی مذہبی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ عوامی شرکت الغزاوی کے سماجی اور مذہبی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے، جنہیں لبنان میں سماجی خدمات اور عوامی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں مذہبی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسی دوران لبنانی صدر ژوزف عون کی جانب سے شیخ علی الغزاوی کو ’’تمام لبنانیوں کا مفتی‘‘ قرار دینے پر بھی دارالفتویٰ کے بعض حلقوں میں حساسیت پائی جاتی ہے۔ بعض افراد نے صدر کے اس بیان کو مفتی اعظم لبنان کے لیے ایک سیاسی پیغام سے تعبیر کیا ہے۔

تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر ژوزف عون اور مفتی اعظم شیخ عبداللطیف دریان کے تعلقات مجموعی طور پر اچھے قرار دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں دریان نے صدارتی محل کی جانب سے طلب کی جانے والی بعض حمایتیں بھی فراہم کی ہیں، بالخصوص اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے متعلق معاملات میں۔

رپورٹ کے مطابق مفتی اعظم اور ملک کے دیگر مفتیوں کے درمیان تعلقات اور تعزیتی و مذہبی تقریبات میں شرکت کا معاملہ اب محض رسمی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ اسے لبنان کے سنی مذہبی ڈھانچے کے اندر موجود اختلافات، اثر و رسوخ کی کشمکش اور باہمی رقابتوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha